kaboter ko ku bada kia gya quran majeed kia likha ha

0

 قرآن مجید میں کبوتروں کو بڑا کرنے کا کوئی واضح ذکر نہیں ملتا ہے۔ تاہم، کبوتر مختلف واقعات اور کہانیوں میں بطور علامت نظر آتے ہیں۔                            


سورۃ البقرة، آیت 260:

وَاذْكُرْهُنَّ يَوْمَ الْقَبْرِ إِذْ يُنَادِيهِمُ اللَّهُ مَا فَعَلْتُمْ بِالْآيَاتِ قَالُوا بَرِئْنَا إِلَيْكَ مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ

ترجمہ:

“اور انہیں قبر کے دن یاد کرو جب اللہ انہیں پکارے گا کہ تم نے اس کی نشانیوں کے ساتھ کیا کیا؟ وہ کہیں گے، ہم آپ سے بری ہیں، ہم شرک نہیں کرتے تھے۔

یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ قیامت کے دن لوگوں سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ کچھ مفسرین کا کہنا ہے کہ اس آیت میں مذکورہ “نشانیوں” میں سے ایک حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی پر سوار کبوتر تھا۔

سورۃ نوح، آیت 49:

فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ غُرَابًا يَلْبَثُ عَلَيْهِ جِلَّةً ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهِ حَمَامَةً فَلَمْ تَجِدْ لَهُ قرارًا فَرَجَعَ إِلَيْهِ وَقَالَ لَنْ أَجِدْ إِلَّا أَنَّ الْأَرْضَ قَدْ غِيْرَتْ أَوْ أَنَّ حَمَامَةً ضَلَّتْ

ترجمہ:

“پھر اس نے [کشتی سے] ایک کوا بھیجا جو کچھ دیر اس پر گھومتا رہا پھر اس نے ایک کبوتر بھیجا مگر اسے ٹھہرنے کی جگہ نہ ملی تو وہ اس کے پاس واپس آ گیا اور کہا کہ مجھے تو بس اتنا ہی معلوم ہوا ہے کہ زمین ڈھک گئی ہے یا کبوتر بھٹک گیا ہے۔

یہ آیت حضرت نوح علیہ السلام کی کہانی میں طوفان کے بعد خشک زمین تلاش کرنے کے لیے بھیجے گئے کبوتر کے بارے میں ہے۔ کبوتر زمین پر زیتون کی شاخ لے کر واپس آیا، جسے طوفان کے ختم ہونے کی نشانی کے طور پر لیا گیا۔

مندرجہ بالا آیات سے یہ بات اخذ کی جا سکتی ہے کہ:

  • کبوتر قرآن مجید میں بطور علامت استعمال ہوتے ہیں۔
  • وہ وفاداری، امید، اور امن کی علامت کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔
  • انہیں حضرت نوح علیہ السلام کی کہانی میں طوفان کے ختم ہونے کی نشانی کے طور پر بھی ذکر کیا گیا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ کبوتروں کو بڑا کرنے والے کسی بھی جادوئی واقعے کا قرآن مجید میں ذکر نہیں ملتا ہے۔ کبوتر کی علامتی حیثیت کو سمجھنا زیادہ اہم ہے، جو کہ مختلف آیات میں پائی جاتی ہے۔

Post a Comment

0Comments

Ok

Post a Comment (0)
To Top